Uncategorized

(پیاسا کوا (جدید

کوئی تیسری چوتهی دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی جنگل میں ایک کوا رہتا تها (اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پورے جنگل میں ایک ہی کوا تها دراصل کہانی ایک ہی کوے کی ہے). اللہ کے حکم سے پیاسا بهی تها (کوا ہو اور پیاسا نہ ہو ممکن ہی نہیں) وہاں بهی شاید جانوروں کے گناہوں کی وجہ سے بارش کا نام و نشان بهی نہیں تها. کوے سے جب پیاس برداشت نہ ہوئی تو سوچا کہ شہر کی طرف نکلوں شاید کہیں پانی نظر آجائے سو میاں کوے نے اڑان بهری ابهی تهوڑا سا فاصلہ ہی ناپا تها کہ اسے ایک گهڑا نظر آیا، پہلے تو غیرت نے اجازت نہ دی کیونکہ اس نے بهی سن رکها تها کہ ان کے قبیلے کے ہی ایک “جی” نے سارا دن گهڑے میں کنکریاں ڈال کر پانی پیا تها. اب اکیسویں صدی تهی، کسی کے پاس اتنا ٹائم کہاں کہ وہ کنکریاں ڈهونڈتا پهرے لیکن پیاس نے بهی شدت پکڑی ہوئی سو ایک ٹرائی کرنے میں حرج نہ تها شاید گهڑا بهرا ہوا ہو اور کنکریاں ڈهونڈنی ہی نہ پڑیں کوے نے ڈائی ماری اور گهڑے کے اوپر لینڈ کر گیا پہلے تو اسے گهڑے کے اندر صرف اندهیرا ہی نظر آیا تهوڑی دیر بعد جب کچه آنکهیں دیکهنے کے قابل ہوئیں تو دیکها کہ گهڑے میں ایک کاکروچ کے علاوہ کچه بهی نہیں تها کوا انتہائی مایوسی کے عالم میں کاکروچ پر لعنت بهیجتا ہوا دوبارہ اڑ پڑا، تهوڑا فاصلہ طے کیا تو دیکها کہ شہر کے قریب ایک تالاب ہے کوے کی خوشی کا ٹهکانہ نہ رہا تالاب کے قریب پہنچا تو ایک دفعہ پهر مایوس ہوا کیونکہ تالاب میں ایک تو اتنے شاپر اور گند تها کہ پانی میاں نظر ہی نہیں آرہے تهے دوسرا تالاب میں کئی مردار پڑے ہوئے تهے کوا بهی آخر اکیسویں صدی کا تها سو اسے بهی اپنی صحت کا خیال تها اس لیے بس تالاب کو بس اوپر اوپر سے دیکه کر لعنت بهیج کر شہر کی طرف نکل پڑا. شہر میں سب سے پہلے اس کی نظر جس نلکے پر پڑی اس کی “ہتهی” کوئی نکال کر لے گیا تها سو وہاں بهی اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا. پیاس سے برا حال ہورہا تها اور کہیں بهی پانی کی امید نظر نہیں آرہی تهی کوے نے آخری کوشش کے طور پر پورے شہر کے گرد چکر لگایا لیکن پانی نہ ملنا تها نہ ملا کوے کی ساری غیرت پیاس کی نظر ہو گئی ایک دفعہ تو دل کیا اسی تالاب سے ہی جاکر پانی پی لے لیکن اب اس کی اتنی ہمت بهی نہیں رہی تهی کہ وہ تالاب تک اڑ سکتا سو برداشت کرنے لگا اچانک اس کی نظر سامنے ایک دوکان پر پڑی کوے کو ایک آئیڈیا آیا ٹہنی سے اڑا اور دوکان کے سامنے جاکر بیٹه گیا دوکان دار نے کوے کو دیکها تو ویسا ہی منہ بنایا جیسے کسی بهکاری کو دیکه کر بنایا جاتا ہے دکاندار نے وہی انسانی کام کیا، ہاته میں بوکر پکڑی اور کوے کو ڈرانے کی غرض سے ساته “ہر ہر” کی آواز بهی لگائی لیکن کوا پیاسا تها نہ اڑا، دکاندار نے جب دیکها کہ کوا بضد ہے تو شیڈ سے باہر نکل کر اسے اڑانے کی کوشش کی، یہ کوشش بهی بے کار گئی، دکاندار بهی حیران ہوا اور آرام سے چلتا ہوا کوے کے پاس آیا اور نہایت شرافت سے پوچها
“بهائی آخر چاہتے کیا ہو…؟؟”
کوے نے جسم سے خارج ہوتی ہوئی جان کو اکٹها کیا اور نہایت ہی معصومانہ لہجے میں کہا
“ظالما کوکا کولا پلا دے”
عامر راہداری

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s