Urdu Article

گرل فرینڈ ایک قومی مسئلہ

پارٹ ون
آج ہم آپ کا تعارف جس مسئلے سے کرانے جارہے ہیں اس کو عرف عام میں گرل فرینڈ اور عرف خاص میں “بچی” کہا جاتا ہے. گرل فرینڈ کسی بهی معاشرے کا اہم رکن ہے اکثر پرانی قوموں کی تاریخ اٹها کر دیکهی جائے تو ان کی تباہی کا سبب بهی یہی بات بنی کہ وہاں گرل فرینڈ کا تصور نہیں ہوتا تها. اور اگر دیکها جائے تو نئی قوموں کی تباہی کا ذمہ دار بهی یہی بنیں گی. یہ ایسی مخلوق ہے جو کسی حال میں خوش نہیں ہوسکتی، بلکہ خود تو دور کی بات دوسرے کو بهی خوش نہیں دیکه سکتیں. ان کا سب سے پسندیدہ مشغلہ بوائے فرینڈ کو تنگ کرنا ہوتا ہے. تنگ کرنے کے ویسے تو بہت سے طریقے ہیں لیکن آج کل موبائل ان کا بہترین ہتهیار ہے. پرانے وقت اچهے ہوتے تهے جب یا تو گرل فرینڈ بنتی ہی نہیں تهی اور اگر بن بهی جاتی تو اتنا فاصلہ ضرور رہتا تها کہ بندہ اپنی مرضی خوشی سے کوئی بهی کام کرسکے. کتنا اچها وقت ہوتا تها کہ محبوبہ کا دوپٹہ دیکه کر دو مہینے بندہ خوش رہ لیتا تها لیکن یہ موذی موبائل مجهے تو لگتا ہے فرنگیوں نے بنایا ہی اس مقصد کے لیے ہے کہ اس سے نوجوانوں کو رن مرید بنایا جائے. دن کے دوچار گهنٹے تو آپ نے فرض نمازوں کی طرح اپنی گرل فرینڈ کو لازمی دینے ہیں .کبهی کبهی میں سوچتا ہوں کہ اللہ میاں جب گرل فرینڈ بنا رہے تهے تو اس کے پیش نظر دن میں دوچار گهنٹوں کا اضافہ ہی کر دیتے جو صرف انہی پر ضائع کیے جاتے..
اچها انہیں کال کے سٹارٹ میں ہیلو کی بجائے “جانو” سننا ہے اگر کسی دن غلطی سے ہیلو کہ دیا تو ایک گهنٹہ صرف اس بحث میں کہ
“ہیلو کیوں کہا”
اب اگر تو آپ چاہتے ہیں کہ بحث سے بچیں تو فورا سوری کرلیں لیکن اگر آپ نے ہمت کرکے بحث کر بهی لی تو بهی آخری میں سوری آپ کو ہی کرنی پڑے گی.
پهر پوچهیں گی
“کیا کررہے ہو”
اگر تو آپ کا جواب ہوا کہ “کام کررہا ہوں” تو مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب آپ کو لازمی دینا ہوں گے
“کیسا کام”
“کیوں کررہے ہو”
کب سے کررہے ہو”
“کب تک کرو گے”
اور اگر آپ نے کہ دیا کہ “کچه نہیں کررہا” تو بهی “تمام سوال لازمی ہیں”
“فارغ کیوں پڑے ہو”
“کچه نہیں کررہے تهے تو کال کیوں نہیں کی”
“کچه کرتے کیوں نہیں”
اچها ان کو ایک اور بیماری بهی ہوتی ہے ہر کال میں اپنی ڈریسنگ اور اپنی فرینڈز کی بے عزتی کا ذکر لازمی کریں گی.
اچها..
ہم اگر کال میں کسی لڑکی کا ذکر کردیں تو ایسے ایسے سوالات پوچهیں گی جو فرشتوں نے بهی نہیں پوچهنے اور خود کسی لڑکے کا ذکر کریں گی تو پوچهنے پر ٹکا سا جواب ملے گا
“میرا اچها دوست ہے”
اب بندہ شک بهی نہیں کرسکتا کہ اسی شک میں لڑائی اور لڑائی میں ایک اور گهنٹہ ضائع…
ایک اور بات خود ان کی کال کے درمیان میں کال آجائے تو آدها گهنٹہ ہولڈ پر رکه کر موصوف کالر کو اپنے گهر بلکہ محلے کے تمام پوشیدہ راز بتانے کے بعد لوٹیں گی اور اگر ہمیں کسی بدنصیب نے درمیان میں کال کرلی تو پہلی کال تو اٹینڈ ہی نہیں کرنے دیں گی اور اگر اٹینڈ کر بهی لی تو پهر کوئی پندرہ عدد سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیار ہوجائیں
“کون تهی”
“لڑکی ہوگی”
“قسم کهاو”
“نہیں تم نے جهوٹی قسم کهائی ہے”
“اچها امی کی قسم کهاو”
کوئی آٹه دس قسموں کے بعد پوچهیں گی
“تم آئندہ کسی سے بات نہیں کرو گے..؟
جواب دیا
“اچها”
بولیں گی
اتنا “چهوٹا سا اچها”
اب کوئی مجهے یہ بتائے کہ “بڑا سا اچها” کیسے کیا جاتا ہے
اچها ان کے کچه فیورٹ سوال بهی ہوتے ہیں. جو ہر کال میں پرچے کے پہلے سوال کی طرح لازمی ہوتے ہیں.
“ناشتہ کیا؟؟”
“کیا کهایا”
“کب کهایا”
“کیا پہنا”
“یہ کیوں پہنا”
“وہ کیوں نہیں پہنا”
اور مزے کی بات ایک کال کے فورا بعد بهی دوسری کال ہوئی تو بهی مندرج بالا سوالوں کے جواب لازمی دینا ہوں گے.
اچها غلطی سے آپ کے منہ سے نکل گیا کہ آج آپ کو چهٹی ہے تو فورا ٹانگیں سیدهی کرلیں گی
“گڈ، مطلب آج لمبی کال ہوگی”
اب انہیں کون مردود سمجهائے کہ چهٹی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ بندہ بالکل ہی فارغ ہے
اچها اگر ایسے ہی بهول چوک میں آپ کے منہ سے اگر کوئی “دوسری قسم” کی بات نکل گئی تو ایسا لیکچر سماعت میں انڈیلیں گی کہ طارق جمیل کیا چیز ہے شریعت کے وہ وہ احکام بهی سامنے لے آئیں جن پہ خود بهی شاید کبهی عمل کیا ہو. اب اگر اس شدید قسم کی مومنہ سے آپ نے بهی شریعت کے مطابق دوسری، تیسری یا چوتهی شادی کا ذکر کردیا تو اندر سے ایسی شدید ملحدہ برآمد ہوگی کہ “شرمائیں یہود” فورا عورت کے حقوق کی علمبردار بن جائیں گی اور معافی تب ہی ہوگی جب آپ مانیں گے کہ شادی صرف ایک سے ہی کریں گے بلکہ صرف “موصوفہ” سے ہی کریں
اچها انہیں کال کے آخر میں آئی لو یو سننا ہے
لیکن ٹهہریں….!!
انہیں آئی لو یو بهی فیلنگز کے ساته سننا ہے.
“دوبارہ کہو، فیلنگز کے ساته بولو”
یار خدا کے لیے کوئی مجهے بتادو کہ دو گهنٹے کی اس شدید قسم کی زیادتی کے بعد کونسی فیلنگز آسکتی ہیں. آئی لو یو کے کوئی سات آٹه مختلف ورژن سننے بلکہ Feel کرنے بعد انہیں موبائل Kiss بهی چاہیئے ہوتی ہے. اوپر سے کوئی ایک دفعہ کی Kiss ہو تو پهر بهی خیر ہے پانچ دفعہ تو انہیں سنائی نہیں دیتی اگر سن بهی لیتی ہیں تو بهی بہانے…
“موبائل کے اوپر منہ رکه کے کرو”
“گال پہ کرو”
“ہونٹوں پہ نہیں کرنی اچها”
ویسے کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ کونسی ایسی سائنس ہے جس میں ایک طرف کی Kiss دوسری طرف پہنچ جائے. اچها کال بند ہونے کے بعد بهی انہیں چین نہیں آتا. میسج پہ شروع ہوجائیں گی
یار…!!
دنیا کی کونسی کتاب میں لکها ہے کہ دو گهنٹے کال پہ بات کرنے کے بعد آدها گهنٹہ میسجنگ بهی کرنی ہے؟؟
آپ نے اگر ریپلائی کرنے میں ایک منٹ کی دیر کردی تو پهر اضافی ٹائم بهی دینے کے لیے تیار رہیں
پوچهیں گی
“لیٹ ریپلائی کیوں کیا”
جواب دیا
“واشروم میں تها”
غصے والی سمائلی کے ساته میسج آئے گا
“تم گندی باتیں کرتے ہو..گندے”
یار دنیا کا کونسا مذہب ہے جس میں واشروم کا نام لینا گندگی کے ذمرے میں آتا ہے. خود اپنی چهینکوں، ڈکاروں، اور اپنے بهانجے بهتیجوں کی پوٹیوں کا ذکر کرتی رہیں گی ہمارے منہ سے واشروم کا لفظ نکل گیا آسمان سر پر اٹها لیں گی.
اچها خود ان سے میسج پہ کوئی بات پوچه لو تو ریپلائی ندارد…!!
مثال کے طور پر آپ نے پوچها:-
“یار یہ میسج پیکج کیسے کرتے ہیں..؟؟
کوئی دو گهنٹے بعد ریپلائی آئے گا
“مجهے نہیں پتا، تم کسی اور سے پوچه لو”
اب ان کو کون بتائے کہ اگلا بندہ دو گهنٹے کیا اسی میسج کا انتظار کرتا رہا ہے؟؟
اچها ڈارون کی تهیوری اس جانور پر بهی عمل جاری رکهے ہوئے ہیں..
آہستہ آہستہ یہ بهی بولنے کی قوت کهوتی جارہی ہیں میرا مطلب یہ نہیں کہ بولنا ہی چهوڑ رہی ہیں بلکہ بولے بغیر تنگ کرنے کے ارتقائی مراحل میں داخل ہورہی ہیں
مثلا اب “Awwww” ان کی فیورٹ اور مشترکہ آواز ہے اسی طرح اب یہ بڑی بڑی سے بات کا جواب بهی صرف ایک سمائلی کی صورت میں دے سکتی ہیں. اور چهوٹی سے چهوٹی بات کا بهی بتنگڑ بنا سکتی ہیں.
خیر مجهے مس کالز آرہی ہیں آخری دعا کے ساته اجازت چاہتا ہوں اللہ آپ کو اس بلا سے ہمیشہ محفوظ رکهے آمین
عامر راہداری

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s