Urdu Article

ظالم حسینہ

وہ پورے جلال سے چلتی ہوئی آرہی تهی. نیلے رنگ کی فٹنگ جینز جو کے پنڈلیوں سے کافی اوپر آکر پهنس گئی تهی ورنہ شاید اور بهی اوپر جاتی، ساته سفید رنگ کی آوارہ سی اٹکهکیلیاں کرتی ہوئی عجیب و غریب قسم کی جالی دار شرٹ جسے شاید کپڑا بنانے والی کمپنی نے مچهر دانی کے طور پر بنایا تها لیکن کسی ناہنجار و بے حیا قسم کے درزی نے شرٹ بنا دیا تها وہ تو شکر ہے محترمہ نے نیچے شمیز ٹائپ کوئی چیز چڑها رکهی تهی ورنہ آج کمرے سے میری لاش ہی نکالی جاتی، بالوں کو بهورا رنگ کیا ہوا تها اور تراش خراش ایسی کے سانپ بهی شرما جائیں، رنگ ایسا سفید کہ لگ رہا تها کہ خدا نے سپیشل کسی اور سیارے سے مٹی منگوا کے تراشا ہو، ایک لمحے کو مجهے شک سا گزرا کہ یہ گورا پن شاید میک اپ کا کمال ہو لیکن خدا گواہ ہے اگر وہ میکپ بهی تها تو بنانے والے کے ہاته چومنے کو دل کررہا تها. آنکهیں اتنی سیاہ کے مجهے اپنا نصیب بهی گورا لگنے لگا تها اس کے اوپر تلوار طرز کی بهویں، بلکہ ابرو کہنا مناسب ہوگا بهویں سے مجهے ہمیشہ وہ شعر یاد آجاتا ہے..

رقیب رو سیاہ کتے کا پلہ

ابروئے یار کو کہتا ہے بهوں

ہونٹوں کے متعلق تو میں بتا بهی نہیں سکتا بس اتنا کافی ہے کہ وہ ہونٹ نہیں تهے چهریاں تهیں. بازو کہنیوں تک بالکل برہنہ تهے مخروطی انگلیوں سے لے کر بانہوں کے ننگے پن تک سبز رنگ کی رگیں صاف دکهائی دے رہی تهیں اور تو اور بازو پر ایک قاتل قسم کا ٹیٹو بهی بنا ہوا تها. دوپٹہ کسی ڈاکٹر کے استیتهوسکوپ کی طرح گردن میں فارغ پڑا ہوا تها میری گبهراہٹ اپنی انتہا کو پہنچ چکی تهی یہ وہ لڑکی تهیں جسے ہم نے کل انٹرویو کے لیے بلایا تها لیکن یہ آج تشریف لے آئی تهیں ویسے ان کی گریس دیکه کر مجهے احساس بهی ہورہا تها کہ ایسے لوگوں کو ہر جگہ لیٹ ہی جانا چاہیئے ( لیٹ، مطلب دیر سے). اس وقت میرے دل کی وہی حالت تهی جو ذلیخہ کی یوسف کو دیکهتے ہوئے ہوئی ہوگی. مجهے یہ تو اندازہ ہوگیا تها کہ محترمہ کسی اپر ہائی کلاس سے تعلق رکهتی ہیں سو اردو میں بات کرنا ان کی شان میں گستاخی کے مترادف ہوگا میں اپنی ساری انگلش کو دماغ میں اکٹها کررہا تها تاکہ بوقت ضرورت کہیں عزت سادات بهی نہ چلی جائے کیونکہ پہلی بات تو میں ہوش میں نہیں تها دوسری بات اگر ہوش میں ہوتا تو بهی کیا کر لیتا. وہ میرے سامنے سیٹ پر آکر براجمان ہوئی تو یقین کریں سیٹ کی بهی ہلکی سی کراہ سنائی دی، خوشبو کا ایک جهونکا میرے نتهنوں سے ٹکرایا اور دماغ سے ہوتا ہوا سیدها دل تک پہنچ گیا میرے دماغ میں بس ایک ہی جنگ جاری تهی کہ کیا پوچهوں..؟

How are you..

یا

You are beutiful…

یا

Will you marry me…

یا

Why did you not come yesterday..?
اففف کیا ہورہا تها میرے ساته، میری ساری انگریزی گڈ مڈ ہورہی تهی کچه سمجه نہیں آرہا تها کہ مجهے کیا بولنا ہے. ایک بار تو یہ خیال بهی آدهمکا کہ اگر اس سے میری شادی ہوگئی تو پہلے بیٹے کا نام شارق رکهوں گا، ایک تو مجهے الفاظ چهوٹے لگ رہے تهے، اوپر سے وہ بدتہذیب حسینہ سیدها میری آنکهوں میں دیکهے جارہی تهی،  کیا پوچهوں؟ کیوں پوچهوں؟ کیسے پوچهوں؟ دماغ نے ٹہوکا دیا “بهیا کچه بول بهی دو عزت سادات کا بیڑا کیوں غرق کیے جارہے ہو..؟” آخر کار جسم کے تمام خلیوں کی طاقت کو اکٹها کرکے میں بول ہی اٹها
“Why did you not come yesterday…??”
مجهے اپنی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی بلکہ ایک لمحے کو تو ایسا لگا کہ میں نے اپنی نہیں کسی اور کی آواز سنی ہو. مجهے ایسا لگا جیسے میں نے اقرار جرم کرلیا ہو، شاید میں اور بهی کچه سوچتا لیکن میرا سوال سن کر وہ ہلکے سے مسکرانے لگی، ابهی میں اس کی مسکراہٹ میں کهونے ہی والا تها کہ اس نے آہستہ سے اپنے مرمریں لب کهولے
“سر وہ کل صبح میری “ناڑ پہ ناڑ” چڑه گئی تهی اور شام کو کمر میں “کڑل” پے گیا تها اس لیے نہ آ پائی”
خدا گواہ ہے اگر کمرے کی کهڑکی ہوتی تو یہ جملہ سننے کے بعد میں چهلانگ لگا دیتا، اپنی انگلش اور جذبات کا یوں سرعام خون ہوتا دیکه کر میں بس اتنا ہی بول پایا
“بہن جی اللہ آپ کو صحت دے، کل آئیے گا”
عامر راہداری

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s